And hold firmly to the rope of Allah all together and do not become divided…(3:103)

بچوں کے حقوق کا تحفظ

Posted by:

|

On:

|

وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌ ۢ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِه وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰ لِكَ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (233)


Quran Ayah Data not found….for Surah:2, Ayah:233 and Translation:93

Quran Surah:2 Ayah:233

’’جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدت رضاعت تک دودھ پیئے، تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دُدودھ پلائیں۔ اِس صورت میں بچے کے باپ کو معروف طور سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہوگا۔ مگر کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالنا چاہئے۔ نہ تو ماں کو اِس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اس کا ہے ، اور نہ باپ ہی اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے۔ دُودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا بچے کے باپ پر ہے ویسا ہی اس کے وارث پر بھی ہے۔ لیکن اگر فریقین باہمی رضا مندی اور مشورے سے دُودھ چھڑانا چاہیں، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دُودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو، وہ معروف طریقے پر ادا کرو۔ اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے‘‘۔
مندرجہ بالا آیت میں والدین کو بہت سی ہدایات دی گئی ہیں۔ ان ہدایات کا انہیں پابند بھی بنایا گیا ہے تاکہ بچوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکے۔ چند اہم ہدایات درج ذیل ہیں:
(۱) ماں باپ میں جب دوری پیدا ہوتی ہے تو اس کا بُرااثر سب سے زیادہ بچوں پر پڑتا ہے ۔ بچہ اگر چھوٹا ہو تو معاملہ اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے۔ ماں تو جدا ہوکر میکے چلی جاتی ہے اور باپ میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ بچے کو بذات خود سنبھال سکے۔ درمیان میں بچہ پستا ہے۔ اس سنگین صورت حال میں بُرے اثرات سے بچانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے ماں باپ دونوں کو بچوں کی پرورش و پرداخت کے سلسلے میں ہدایات دی ہیں اور ان ہدایات کا پابند بنایا ہے ، ماں کو یہ ہدایت ہے کہ شوہر سے جدائی کے باوجود اگر بچے کو ماں کے دودھ کی ضرورت ہے تو وہ دودھ پلائے۔ شوہر سے ناراضگی کی وجہ سے وہ بچے کو دودھ پلانے سے انکار نہیں کرسکتی کیونکہ یہ بچے کا حق ہے اور اسے یہ حق ملنا چاہئے ۔ اسے اس حق سے محروم کرنا اس پر ظلم ہوگا۔ اسی طرح باپ کو یہ ہدایت ہے کہ وہ ضرورت محسوس کرے تو بیوی کی ناراضگی کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے اس سے دودھ پلانے کی خدمت لے اور اسے خدمت کا معاوضہ ادا کرے تاکہ بچے کو اس کی حقیقی ماں کا دودھ میسر آئے کیونکہ بچے کیلئے اس سے زیادہ بہتر کوئی اور غذانہیں۔
(۲) ماں باپ کو اس آیت میں جو دوسری ہدایت دی گئی ہے وہ یہ کہ دودھ پلانے کا یہ عمل’’حَوْلَیْنِ کاَمِلَیْنِ‘‘ (پورے دو سال ) چلنا چاہئے ۔دو سال کے قید کی یہاں علت تو نہیں بیان کی گئی ہے لیکن ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوں ہی پابند نہیں بنایا ہے بلکہ دو سال تک بچے کو ماں کے دودھ کی یقینا ضرورت ہوگی۔ تبھی اللہ تعالیٰ نے اس کا پابند بنایا ہے ۔
ڈاکٹر اور سائنس داں بھی اپنے تجربات کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ بچوں کی نشو ونما کیلئے بنیادی مرحلہ ابتدائی دوسال ہے۔ اگر یہ نشوونما بہتر رہی اوروہ مختلف آفات سے محفوظ ہے تو آئندہ اُن کی نشوونما بہتر ہوتی ہے اور وہ بہت سے سنگین امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس دوران معتدل غذا اور ضروری نگرانی انتہائی اہم ہے جو بغیر ماں کے ممکن نہیں۔ ماں کا دودھ سب سے بہترین او رمعتدل غذا ہے او رماں کا دودھ جراثیم سے محفوظ اور جراثیم کش بھی ہوتا ہے۔ اس لئے اس عمر تک ماں کا دودھ پلانا ہی بہتر ہے۔
آج کل مائیں اپنی صحت و حسن کی حفاظت کے نام پر دودھ پلانے سے گریز کی جو روش اپناتی ہیں وہ سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور بچوں کیلئے نقصان دہ ہے۔ تحقیقات تو یہ بتاتی ہیں کہ اس میں صرف بچوں ہی کا نقصان نہیں بلکہ ماوؤں کا بھی نقصان ہے۔ دودھ پلانے سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی عورتوں کو بہت سے عوارض جلد گھیر لیتے ہیں۔ مثلاً پستان کا کینسروغیرہ۔ خو داپنے آپ کو نقصان سے بچانے کے لئے بھی انہیں اپنی اس روش سے باز آجانا چاہئے ۔ رہا حسن کی حفاظت تو یہ بھی خام خیال ہے ۔ صحت نہ ہو تو حسن بھلا کیسے قائم رہ سکتا ہے۔
(۳) ’’وَ عَلَی الَمَوْلُوْدِ لَہٗ‘‘ کہہ کر اس آیت میں تیسری ہدایت یہ دی گئی کہ بچوں کوباپ کی طرف منسوب کیا جائے۔نسب سے تعارف کی تکمیل ہوتی ہے۔ سماجی طور پر مقام متعین ہوتا ہے۔ نسب عزت و وقار اور ادب و احترام کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ اس لئے نسب کو واضح ہونا چاہئے اور واضح کرنا چاہئے ۔ اسی لئے مجہول النسب ہونا یا نسب کی تردید کرنا اچھا نہیں۔ نسب کی تردید کرنے والے کو اور غلط نسبت کرنے والوں کو سخت وعید سنائی گئی ہے۔ سعد بن ابی وقاصؓ اور ابو بکرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت کرے گا اور وہ جانتا ہو کہ وہ دوسرا اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے ‘‘(بخاری، مسلم) ایک دوسری حدیث میں ہے’’اپنے باپوں سے اعراض نہ کرو۔ اپنے حقیقی باپ سے اعراض کرنا گویا کفر ہے ‘‘۔(بخاری)
نسب کی نسبت دائمی ہوتی ہے۔ شادی کے بعد بھی حقیقی نسب باقی رہنا چاہئے ۔ مغرب کی نقالی میں شوہروں کی طرف نسبت کرنا غلط ہے۔ اس سے نسب کے خلط ملط ہونے کا خطرہ ہے۔ اس لئے اس نقالی سے اجتناب ضروری ہے ۔ اللہ کا حکم ہے

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِى الدِّيْنِ وَمَوَالِيْكُمْ وَ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيْمَاۤ اَخْطَاْ تُمْ بِه وَلٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا (5)


Quran Ayah Data not found….for Surah:33, Ayah:5 and Translation:93

Quran Surah:33 Ayah:5

تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بہت انصاف کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں‘‘۔
(۴) ’’وَعَلیٰ الْوَارِثِ مِثْلُ ذَالِکَ ‘‘کے ذریعہبین السطور میں چوتھی ہدایت گرچہ ماں باپ کو تو نہیں دی گئی ہے لیکن بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ضرور ہے۔ وہ ہدایت یہ ہے کہ اگر بچوں کے ماں باپ نہ ہوں تو ان کی پرورش و پرداخت اور کفالت کی ذمہ داری وارثوں پر عائد ہوتی ہے۔ جس تناسب سے وارث وراثت میں حق دار بنتے ہیںاسی تناسب سے وارثوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے بچوں کی کفالت کریں اور ان کے اخراجات پورے کریں۔
آج ہمارے معاشرے میں تقسیم وراثت کے وقت تو حق دار آگے آگے نظر آتے ہیں لیکن جب ذمہ داری کا سوال آتا ہے تو سب کتراتے ہیں۔ یہ چیز انسانیت اور اسلامی تعلیمات دونوں کے خلاف ہے۔ حق کے ساتھ فرض بھی ادا کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے ۔ اللہ توفیق ارزانی کرے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *