And hold firmly to the rope of Allah all together and do not become divided…(3:103)

صحبت کا اثر

Posted by:

|

On:

|

’’عَنْ اَبِیْ مُوْسَیٰ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّاِلِحِ وَ جَلِیْسِ السُوْئِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ و نَافِخِ الْکِیْرِ فَحَامِلُ الْمِسْکِ اِمَّا اَن یُّحْذِیْکَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْہٗ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْہٗ رِیْحاً طِیِّباً وَ نَافِخُ الْکِیْرِاِمَّا اَنْ یُّحْرِقَ ثِیَابَکَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَرِیْحاًخَبِیْثَۃً ‘‘(رواہ البخاری ومسلم )


ترجمہ :’’ اچھے اور بُرے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے اور بھٹی پھونکنے والے (لوہار) کی ہے۔ رہا مشک بیچنے والا تو وہ یا تو تمہیں ہدیہ دے گا یا تم اس سے کچھ خریدو گے یا اچھی خوشبو پاؤ گے۔ رہا بھٹی پھونکنے والا تو وہ یا تو تمہارا کپڑا جلادے گا یا اس سے بدبو حاصل ہوگی۔

تشریح: ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کیلئے ضروری ہے کہ آدمی کا اٹھنا بیٹھنا نیک لوگوں کے ساتھ ہو۔ بُری صحبت بُرا اثر ڈالتی ہے۔ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا ’’کہ تنہائی بُری صحبت سے بہتر ہے‘‘۔ ظاہر ہے صحبت بدہمیشہ بُرے انجام کی طرف لے جاتی ہے جبکہ تنہائی کم ازکم بُرے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ اچھی صحبت ہمیشہ خیرو فلاح کی ضامن ہوتی ہے۔ نبیؐ نے اچھے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے سے دی ہے کیونکہ ان کے پاس بیٹھنا تین فائدوں سے خالی نہیں ہے یا تو وہ آپ کے بیٹھنے کا لحاظ کرکے کچھ ہدیہ دے گا یا آپ اس سے کچھ خریدیں گے اور اگر یہ بھی نہ ہوا تو کم از کم جب تک اس کے پاس بیٹھے رہیں گے مشک کی خوشبو سے لطف اندوز ہوں گے۔ بالکل یہی مثال نیک لوگوں کے ساتھ بیٹھنے اور ان سے دوستی کی ہے۔ نیک لوگوں کے ساتھ بیٹھنے والا کبھی بے فائدہ نہیں اٹھتا۔ اسے دنیوی اوراخروی دونوں فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ نیکوکاروں کی صحبت ہمیشہ برکت و رحمت الٰہی کے نزول کا سبب ہوتی ہے۔ نیکوکار وں کی صحبت سے ان کی دعائیں ملتی ہیں۔
اس کے برعکس بُرے ساتھی کی مثال آپؐ نے بھٹی پھونکنے والے سے دی ہے جس کی صحبت اختیار کرنے میں نقصان ہی نقصان ہے ۔ بُرے ساتھی اور بُری مجلس والے یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ہمنشیں بھی ان کی برائی میں برابر کے شریک رہیں۔ اس کے پیچھے یہ جذبہ کار فرما ہوتا ہے کہ اگر یہ شخص ہمارے ساتھ اس جرم میں شریک نہ ہوا تو اس کی رپورٹ دوسروں کو پہنچائے گا اور اس کو ہم پر فوقیت حاصل رہے گی اور کسی موقع پر وہ ہمارے خلاف گواہی بھی دے گا۔
کفار و مشرکین میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو قدرے سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے نہ تو آپ ﷺکو جھٹلاتے تھے اور نہ ہی آپ پر ایمان لاتے تھے ۔ عقبہ بن ابی معیط بھی انہیں میں سے ایک تھا مگر بُری صحبت نے اس کو ایسا بگاڑا کہ اس کابہت بُرا انجام ہوا۔ قریش نے مشہور کردیا کہ عقبہ نے محمد کا دین قبول کرلیا ہے۔ عقبہ کا ایک دوست تھا جس کا نام غالباً امیہ بن خلف تھا اس کو اس کی خبر ہوئی تو وہ بہت بے چین ہوا۔ عقبہ اس سے ملنے آیا تو اس نے سلام کا جواب تک نہ دیا۔ عقبہ نے کہا میں اپنے دین پر قائم ہوں ۔ مگر امیہ کو یقین نہ آیا اس نے کہا کہ تم محمد کے منہ پر تھوک کر دکھاؤ چنانچہ اس نے اپنے دوست کو خوش کرنے کیلئے آپﷺکے چہرۂ مبارک پر تھوک دیا(نعوذ باﷲ) آپﷺ نے صرف اتنا کہا کہ اگر تم مکہ سے باہر ملے تو قتل کردوں گا۔ چنانچہ عقبہ غزوہ بدر میں قیدی بن کر آیااور آپﷺ کے حکم پر قتل کردیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب جنہوں نے ساری عمر آپﷺ کی سرپرستی کی مگر آخری وقت میں بُرے ساتھیوں کی بات مان کر اپنی عاقبت خراب کرلی۔ یہ تھا بُری صحبت کا اثر۔
آج ہم سب کا یہ فرض ہے کہ اس طرح کے معاشرے سے دور رہیں الا یہ کہ اصلاح مقصود ہو۔ والدین اور سرپرستوں کو اپنے نونہالوں پر نظر رکھنی ہوگی کہ ان کے بچے اس طرح کی صحبتوں سے بچیں اور آپؐ کے فرمانِ مبارک پر عمل کریں۔ ؎
صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالح ترا طالح کند

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *