And hold firmly to the rope of Allah all together and do not become divided…(3:103)

رسول اﷲﷺ کے امتیازی

Posted by:

|

On:

|

’’عَنْ أبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓاَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ ﷺ قَالَ فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِیَائِ بِسِتٍّ أْعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَ اُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَ جُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ مَسْجِداً وَّ طَھُوْرًا وَ أُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَ خُتِمَ بِیَ النَّبِیُّونَ‘‘(رواہ مسلم)


ترجمہ : حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے انبیاء پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے مجھے جامع و مختصر بات کہنے کی صلاحیت عطا کی گئی ہے ،رعب کے ذریعہ سے مجھے نصرت عطا کی گئی ہے ،میرے لئے اموال غنیمت حلال کئے گئے ، زمین کو میرے لئے مسجد اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بنادیا گیا ہے مجھے تمام دنیا کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا اور مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا۔

تشریح: یہ حدیث نبی ﷺ کے خصائص پر روشنی ڈالتی ہے خصائص ان امور کو کہا جاتا ہے جو کسی ذات کے ساتھ خاص ہوں اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو۔ حدیث رسول میں واضح کیا گیا ہے کہ چھ ایسی چیزیں ہیں جن کی بنیاد پر نبیﷺ کا مقام و مرتبہ دیگر انبیاء کے مقابلے میں بڑھ جاتا ہے اور آپﷺ کی فضیلت و برتری روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے اور یہ چیزیں ایسی ہیں جو نبی ﷺ سے پہلے کسی بھی نبی کو عطا نہیں کی گئی ہیں جن کی وضاحت حضرت جابرؓ کی بخاری میں مروی روایت کے الفاظ سے ہوتی ہے ’أُعْطِیْتُ خَمْساً لَمْ یُعْطَھُنَّ اَحَدٌ قَبْلِیْ ‘‘ مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو بھی عطا نہیں کی گئیں تھیں۔
جَوَامِعُ الْکَلِم: اصحاب لغت نے جوامع الکلم کی تعریف یوں بیان کی ہے ۔’’مَاقَلَّ أَلْفَاظُہٗ وَ کَثُرَ مَعَانِیْہ‘‘ ایسا کلام جس میں الفاظ کم ہوں اور معانی میں وسعت و جامعیت ہو۔ اس اعتبار سے جوامع الکلم کا مفہوم یہ ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیت عطا کی تھی کہ آپ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ مختصر مگر نہایت جامع اور کثیر معانی کے حامل ہوتے ہیں ان الفاظ کی اگر تفصیل کی جائے تو ہر تفصیل پر وہ ایسے صادق آتے ہیں گویا وہ اسی کیلئے وضع کئے گئے ہیں قرآن مجید کے بعد یہ اعجاز احادیث نبویہ ہی کو حاصل ہے کہ صاف اور واضح ہونے کے باوجود اس میں حد درجہ وسعت اور جامعیت پائی جاتی ہے البتہ بعض اہل قلم نے جوامع الکلم سے قرآن مجید کو مراد لیا ہے کون ہے جو قرآن کے جامع ہونے کا انکار کرسکے البتہ قرآن کے بعد احادیث نبویہ کا درجہ آتا ہے ۔ عربی زبان و ادب کی بصیرت رکھنے والے پر یہ حقیقت قطعا پوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔
نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ: میری مدد رعب کے ذریعہ کی گئی دشمن ایک مہینہ کی مسافت پر ہوتا ہے اور میری ہیبت اس پر طاری ہو جاتی ہے نبی اکرام ﷺ سے پہلے جو انبیاء کرام دنیا میں تشریف لائے وہ یا تو بظاہر کمزور اور بے یار و مددگار تھے یا انہیں ظاہری قوت بھی ملی تھی۔جیسے حضرت داؤد علیہ السلام او رسلیمان علیہ السلام مگر ان میں سے کسی کو بھی رعب و ہیبت کا انعام نہیں ملا تھا یہ صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص ہے محمدرسول اللہ ﷺ کی رسالت کی ابتدا اگر ایوبی بیچارگی اور مسیحی غربت سے ہوتی ہے تو انتہا موسوی طاقت ، داؤدی سلطنت اور سلیمانی شان و شکوہ سے ہوئی ہے آپ کی تمام تر طاقت و قوت رعب و ہیبت اور جاہ و جلال سب خدا کی راہ میں صرف ہوئی اس سے جہاں گم گشتوں نے راہ پائی ۔ بھولوں نے سبق یاد کیا تو وہیں گنہ گاروں اور مجرموں نے سرا طاعت خم کیا اور اپنے سیہ کاریوں پر نادم و شرمندہ بھی ہوئے ۔
علامہ ابن خلدون نے فنون جنگ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نبی کو یہ خصوصیت اس لئے عطا کی گئی تاکہ کم سے کم خونریزی میں ملک میں امن و امان اور سکون و اطمینان پیدا ہو جائے اور صدائے حق کیلئے راستہ صاحب ہو جائے ۔
آپؐ کی جناب میںبڑے بڑے دل گردہ بہادر زہر میں تلوار بجھا کر آئے مگر جب روئے روشن پر نظر پڑی تو کانپ کر رہ گئے ۔ ایک بدو خدمت اقدس میں حاضر ہوا چہرہ مبارک پر نظر پڑی کانپ اٹھا آپ نے فرمایا ڈرو نہیں میں بادشاہ نہیں ہوں ایک قریشی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت پکا کر کھایا کرتی تھی (بخاری)
أُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ : اسلامی جنگ میں دشمن کا جو مال ہاتھ آتا ہے اسے غنیمت کہتے ہیں پچھلے انبیاء کے زمانے میں اس مال کو استعمال میں لانا جائز نہیں تھا چنانچہ شریعت موسوی اور یوشع بن نون کی فتو حات میں جس قدر اموال غنیمت حاصل ہوتے تھے انہیں نذر آتش کردیا جاتا تھا اور توریت میں تو جانوروں اور بستیوں تک کے جلا دینے کا حکم ملتا ہے مگر اموال غنیمت کو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے حلال کردیا ۔ اسی لئے عہد نبوی کے غزوات میں جو اموال بطور غنیمت ملے بحکم رب العالمین بیت المال کا حصہ نکالنے کے بعدبقیہ مسلمانوں میں تقسیم کردیا گیا ۔
وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَ طَھُوْرًا: زمین کو میرے لئے مسجد اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے اسلام کے علاوہ جتنے مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ مراسم عبادت ادا کرنے کے لئے چند گھری ہوئی چہار دیواریوں کے محتاج ہیںیہود اپنے کنیسہ اور عیسائی اپنے کلیساکے بغیر مراسم عبادت ادا نہیں کرسکتے مجوسی بھی آگ کے آتش کدہ کے بغیر سرگرم عبادت نہیں ہوسکتے ہندو کا حال مندروںکے متعلق یہی ہے انہیں پوجا پاٹ کیلئے مندر جانا ہی پڑتا ہے لیکن اسلام کے عالمگیر اور آفاقی مذہب کا رب آب و گل اور سنگ و خشت کی چہار دیواریوں میں محدود نہیں ہے اس کو ہر جگہ سے پکارا جاسکتا ہے ہر جگہ اس کی بندگی کی جاسکتی ہے ۔
زمین کو اللہ نے پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا ہے صحیح مسلم میں بروایت حضرت حذیفہ اس کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے ’’وَجُعِلَتْ تُرْبَتُہَا لَنَا طَہُوْرً اِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَائَ ‘‘ اس کی مٹی کو ہمارے لئے پاکی کا ذریعہ بنایا گیا ہے جب ہم پانی نہ پائیں یعنی اگر ہم غسل اور وضو کے لئے پانی نہ پائیں تو تیمم کرلیں۔
تمام روئے زمین کا سجدہ گاہ ہونا اور مٹی کو پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنانا بظاہر ایک معمولی بات معلوم ہوتی ہے مگر اس کے اندر وہ صداقت پنہاں ہے جو اسلام کی عالمگیری اور اس کے آخری مذہب ہونے کا ببانگ دہل اعلان کرتا ہے ۔
وَ أُرْسِلْتُ اِلَی اَْلخَلْقِ کَافَّۃً: میں تمام مخلوقات کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں دوسری حدیث میں اسی مفہوم کو ان الفاظ میں واضح کیا گیا ہے ’’کَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثْ اِلیٰ قَوْمِہٖ خَاصَّۃً وَ بُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ عَامَّۃً ‘‘(رواہ مسلم) پہلے نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں تمام ہی انسانوں کی طرف مبعوث ہواہوں ۔ مسند احمد کی روایت میں کہا گیا ہے ’’بُعِثْتُ اِلیَ الْاَحْمَرِ وَ الْاَسْوَدِ‘‘میں کالے اور گورے سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔جو ہدایت آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ سارے انسانوں کی مشترک میراث ہے وہ کسی قوم کی مخصوص چیز نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دعوت و تبلیغ کے کام کو اپنی قوم یا عرب تک محدود نہیں رکھا بلکہ باہر کے لوگوں کو بھی اسلام کی دعوت دی ۔
وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ: اور مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے ۔محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں نبوت کا سلسلہ آپ پر ختم ہے آپ کے بعد اب کوئی نبی آنے والا نہیں ہے اس حقیقت کو قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ لوگو! محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں اور اللہ کو ہر چیز کا علم ہے ۔
خود آنحضرت ﷺ نے ایک بلیغ تمثیل میں اسلام کی تکمیل دین کی تشریح فرمائی ہے کہ میری اور دوسرے انبیاء کی مثال یہ ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی لوگ اس کے اندر جاتے ہیں اور اس کو دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ عمارت میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے تو میں وہ آخری اینٹ ہوں اور میں خاتم النبین ہوں ۔(مسلم)
عمارت دین و نبوت ہے اور ایک ایک اینٹ ایک ایک پیغمبر کا وجود اور اس کا دین و شریعت ہے اور اس کی تکمیل کا پتھر آپ کا وجود اقدس ہے ۔
بروایت حضرت جابر ؓبخاری میں نبی ﷺ کی ایک اور خصوصیت بیان کی گئی ہے ۔
وَاُعْطِیْتُ الشَّفاعَۃَ: اور مجھے شفاعت کبریٰ عطا کی گئی ہے ۔ مسئلہ شفاعت تمام مذاہب میں مسلم ہے مگر اس میں افراط و تفریط پائی جاتی ہے کفار و مشرکین یہودیوں اور عیسائیوں کے یہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ شفیع اپنی ذاتی اختیار سے جسے چاہے گا اللہ کے عذاب سے چھڑائے گا اسی لئے یہ لوگ اللہ کی بندگی کے ساتھ شفیع کی بندگی بجا لانا ضروری سمجھتے ہیں بلکہ شفیع کی بندگی کو اللہ کی بندگی سے مقدم تر سمجھتے تھے وہ کہتے تھے۔ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں تاکہ وہ ہم کو اللہ سے قریب کردیں۔ انہی لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا۔

وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۤءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ قُلْ اَتُـنَـبِّـــُٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى السَّمٰوٰتِ وَلَا فِى الْاَرْضِ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ (18)


Quran Ayah Data not found….for Surah:10, Ayah:18 and Translation:93

Quran Surah:10 Ayah:18

’’یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کی بندگی کرتے ہیں جو نہ انہیں نفع پہونچا سکتے ہیں نہ نقصان اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے شفارسی ہیں اللہ کے پاس‘‘۔ (یونس:۱۸)
اللہ نے کفار و مشرکین یہودیوں اور عیسائیوں کے اس عقیدے کی تردید فرمائی اور شفاعت کبریٰ کا اثبات فرمایا ’’مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ‘‘ (البقرہ:۲۵۵) کون ہے جو اس کی بارگاہ میں بغیر اس کی اجازت کے شفاعت کرے ۔ دوسری جگہ فرمایا ’’وہ ایسا دن ہوگا جس دن روح (اجبرئیل ) اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے صرف وہی بولے گا جس کو رحمان اجازت دے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شفاعت بغیر اذن الٰہی ممکن نہیں ہے۔
ان ساتوں خصوصیات کے علاوہ نبی کو کچھ مزید خصوصیات احادیث سے ثابت ہوتی ہیں مثلاً آپ کے پیرو کاروں کی تعداد دیگر تمام انبیاء سے کہیں زیادہ ہوگی۔’’ قیامت کے دن سب سے زیادہ تعداد میرے پیروکاروں کی ہوگی‘‘۔ آپ اولاد آدم کے سردار ہوں گے سب سے پہلے اپنی قبر سے اٹھیں گے۔’’میں اولاد آدم کا سردار ہوں قیامت کے دن اور سب سے پہلا شحص جو اپنی قبر سے اٹھے گا میں ہوں گا‘‘۔
ان تمام خصوصیات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نبی کا مقام تمام انبیاء سے اونچا ہے جس کو فارسی کے شاعر نے ایک شعر میں پرونے کی کوشش کی ہے ۔
حسن یوسفؑ دم عیسی ؑید بیضاء داری
آنچہ خوباں ہمہ داراند تو تنہا داری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *