And hold firmly to the rope of Allah all together and do not become divided…(3:103)

دین خیر خواہی کا نام ہے

Posted by:

|

On:

|

عَنْ تَمِیْمِ الدَّارِیّ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ ﷺ قَالَ ’’اَلدِّیْنُ اَلْنَّصِیْحَۃُ ثَلاَ ثَاً قُلْنَا لِمَنْ!قَالَ لِلّٰہِ وَ لِکِتَابِہٖ وَلِرَسُوْلِہٖ وَ لِأَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَ عَامَّتِہِمْ ‘‘(رواہ مسلم)


ترجمہ : حضرت تمیم داریؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: دین خیر خواہی کا نام ہے۔ تین مرتبہ یہ بات آپ ﷺ نے دہرائی۔ ہم نے پوچھا خیر خواہی کس کیلئے؟ تو آپﷺ نے فرمایاا:للہ کیلئے، اس کی کتاب کیلئے، اس کے رسول ، مسلمانوں کے امام اور عام لوگوں کیلئے (مسلم )

الدین النصیحۃ (دین خیر خواہی ہے)
نصح کے اصل معنی ملاوٹ اور کھوٹ سے پاک ہوناہے۔ ایسا شہد جو موم سے پاک صاف کرلیا گیا ہواس کو ناصح العسل خالصۃ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح نصح قلب الانسان اس وقت کہا جاتا ہے جبکہ دل میں کسی قسم کا کھوٹ ،کینہ، حسد ، رقابت ، اور چپقلش باقی نہ رہے انسان کا ظاہر اس کے باطن سے ہم آہنگ ہو۔
قرآن میں ہے ’’تُوْبُوْ ااِلَی اﷲِ تَوْبَۃً نَصُوْحاً‘‘(التحریم :۸) یعنی ایسی توبہ جو ہر قسم کے نفاق اور تلون سے پاک ہو۔
ﷲ (اﷲ کیلئے )
اللہ کیلئے نصیحت کا معنی یہ ہے کہ خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی کھوٹ نہ ہو۔ دل مجسم خلوص ووفا داری اور اخلاص و للہیت کا آئینہ دار ہو۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ بندہ اللہ کی ذات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے اس کی زندگی اخلاص کی پرتو ہو۔ برعکس عیسائیوں کے کہ وہ تثلیث Trinityکو مانتے ہیں یہودی حضرت عزیز کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اور ہمارے ملک ہندوستان میں ہندو بھائیوں میں لا تعداد الہ کا تصور اس قدر بڑھا کہ انہوں نے ہر کنکر میں شنکر کو تسلیم کیا اس طرح وہ شرک فی الذات کے مرتکب قرار پاتے ہیں۔
اللہ کی صفات میں کسی مخلوق کو شریک سمجھنا، اللہ کے علاوہ کسی کو نفع و نقصان کا مالک سمجھنا، کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا شرک فی الصفات ہے۔ ہندو سوسائٹی اور سماج میں رہتے ہوئے ہم مسلمانوں میں سے بھی بہت سارے لوگ اوہام پرستی کا شکار ہوکر شرک فی الصفات کا ارتکاب کرتے ہیں۔
حکم دینا، قانون سازی ، اشیاء کی حلت و حرمت یہ سب اللہ کے حقوق واختیارات ہیں۔ ان تمام اختیارات میں مخلوق کو شامل کرنا للہیت کے منافی عمل ہے۔ اہل کتاب کے اسی رویہ کی اللہ نے

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَـعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ (31)


Quran Ayah Data not found….for Surah:9, Ayah:31 and Translation:93

Quran Surah:9 Ayah:31

(انہوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور درویشوں کو رب بنالیا ہے )میں مذمت کی ہے چنانچہ حضرت عدی بن حاتم طائی نے جو اسلام لانے سے قبل عیسائی تھے رسول اللہ ؐ سے عرض کیا: ہم لوگ اپنے مذہبی رہنماؤں کو اپنا رب تو نہیں سمجھتے تھے آپؐ نے فرمایا کیا تم لوگوں کا یہ اعتقاد نہ تھا کہ یہ لوگ جس چیز کو چاہیں حلال اور جس چیز کو چاہیں حرام کردیں حضرت عدی نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا یہی رب بنانا ہے۔ (ترمذی)

ولکتابہ (اللہ کی کتاب کیلئے )
کتاب اللہ کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ جوکتاب اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی ہے اس پر بغیر کسی تغیر و تحریف کے ایمان لایا جائے۔ نزول قرآن کے اعلیٰ مقاصد کی تکمیل کی جائے۔ اس کو کتاب ہدایت تسلیم کیا جائے۔ اللہ کی کتاب کی خیر خواہی کا حق ہم تین طریقوں سے انجام دے سکتے ہیں۔
(۱) قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے۔ صحت تلفظ ، درستگی مخارج پر توجہ دی جائے۔ کثرت سے تلاوت کی جائے ۔ ’’زَیِّنُوْالْقُرْآنَ بِاَصْوَاتِکُمْ‘‘(قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو)عملی جامہ پہنایا جائے۔
(۲) قرآن مجید میں غور وفکر اور تدبر و تفکر کیا جائے تاکہ ہمیں اس کے معنی و مفہوم سے آگاہی ہو اوراس کی تعلیمات پر عمل کرکے رضاء الٰہی حاصل کی جاسکے۔ اللہ کا فرمان ہے ’’کِتَابٌ اَنْزَلْنَاہٗ اِلَیَْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوْا اٰیَاتِہٖ وَ لِیَذَّکَّراُوْلُوْالْاَلْبَابِ‘‘ (صٓ:۲۹) یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔
(۳) تدبر و تفکر پر ہی اکتفا نہ کیا جائے بلکہ قرآنی تعلیمات کو عملی زندگی میں برتتے ہوئے اس کوپھیلانے کی کوشش کی جائے۔ اس کی تبلیغ واشاعت کو اپنی زندگی کا بہترین مشغلہ بنایا جائے ۔’’بَلّغُوْا عَنّیْ وَ لَو آیَۃً‘‘(میری جانب سے پہنچاؤ اور اگرچہ ایک آیت ہی ہو)
ولرسولہ (اﷲ کے رسول کیلئے)
رسول اللہ کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ کی رسالت کی تصدیق کی جائے۔ آپؐ کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی کی جائے۔ آپؐ کے ارشادات و فرمودات سے سرمو انحراف نہ کیا جائے اور اس نظام کو غالب کرنے کی سر دھڑ کی بازی لگا دی جائے جس کیلئے آپ اور آپ کے جانباز صحابہ نے اپنا خون پسینہ ایک کردیا تھا۔ آپ سے ثابت ہر طریقے کو دوسروں کے طور طریقوں پر مقدم رکھا جائے اور آپؐ کا فرمان آجانے کے بعد کسی امتی کی رائے اور عمل کو کوئی وزن نہ دیا جائے ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’لَاْ یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہٗ تَبعاً لِمَا جِئْتُ بِہٖ‘‘ (بخاری) تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی خواہشات کو شریعت کے تابع نہ بنادے۔
ولائمۃ المسلمین (مسلمانوں کے امام کیلئے
امراء و حکام کے ساتھ خیر خواہی یہ ہے کہ حق باتوں میں ان کا تعاون کیا جائے اگر وہ دین وشریعت کے حقیقی پیرو ہیں تو ان کے خلاف بغاوت کا علم نہ بلند کیا جائے اور نہ ہی ان کی مخالفت کی جائے لیکن اگر وہ کجروی اور غلط روی کا شکار ہوں تو ’’لاَ طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ‘‘ (بخاری)کے تحت بلا خوف و تردد بے باکی سے ان پر تنقید کی جائے ان کی غلطیوں اور خرابیوں کو عوام پر بے نقاب کیا جائے۔امام احمد بن حنبلؒ کی حکمراں کے خلاف استقامت، ابن تیمیہؒ کا مصر کے جباروں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو جانا، مجد دالف ثانیؒ کا جہانگیر کے دربار میں دین الٰہی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا ائمۃ المسلمین کی خیر خواہی کی مثالیں ہیں۔
و عامتہم (عام مسلمانوں کیلئے )
عام مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی یہ ہے کہ ان کی صحیح رہنمائی کی جائے۔ ان کو نیک مشورے دئیے جائیں جس میں ان کی بھلائی ہو۔ ان کو دھوکہ نہ دیا جائے اور نہ ہی ان کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے جو شریعت سے میل نہ کھاتا ہو۔ عوام کے ساتھ خیر خواہی کے چند پہلو ہوسکتے ہیں۔
(۱) عوام راہِ راست پر نہ ہو تو ان کو حکمت و موعظت کے ساتھ سیدھے راستے کی دعوت دی جائے اوران میں اسلامی شعور اور دینی بیداری پیدا کرنے کی سعی پیہم کی جائے۔
(۲) عوام میں دین سے جہالت عام ہو تو علم کی شمع جلائی جائے دینی مدارس، تعلیمی ادارے اور تعلیم بالغان کے مراکز قائم کئے جائیں۔ خواتین کی تعلیم و تربیت کا معقول بندوبست کیا جائے اور دعوت دین کو اتنا عام کیا جائے کہ ہر درودیوار سے قال اﷲ و قال الرسول کی صدا ئے دلنواز گونجنے لگے۔
(۳) سماج کے بیماروں کی عیادت کی جائے بے سہارا مریضوں کے علاج و معالجہ کا مناسب بندوبست کیا جائے۔ مصیبت زدہ افراد کی دل کھول کر مدد کی جائے۔ مظلوم کی دادرسی اور ظالم کا پنجہ مروڑ دینے کی اجتماعی کوشش کی جائے ۔
(۴) مسلمانوں کے تجہیز و تکفین میں شرکت کی جائے۔ اعزہ و پسماندگان کی تعزیت کی جائے۔ باہمی امداد و تعاون اور ہمدردی و غمگساری کا جذبہ ایسا عام کردیا جائے کہ ’’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ‘‘ کا اثر انگیز نظارہ دنیا کے سامنے اسی طرح آجائے جس طرح قرون اولیٰ میں صحابہ کرامؓ کے درمیان عام تھا۔
ان تمام وضاحتوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ دین میں خیر خواہی کی بڑی قدرو قیمت ہے۔ یہی سبب ہے کہ نبی اکرم ؐ جب بھی صحابہ سے بیعت لیتے تو اس میں خیر خواہی کی تعلیم ضرور ہوتی تھی۔ صحیح بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق حضرت جریر بن عبداللہؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی نماز قائم کرنے ، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر ۔
خیر خواہی کا اساسی پیمانہ یہ ہے کہ ’’یُحِبُّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ‘‘ (بخاری) اپنے بھائی کیلئے وہ پسند کرے جو خود اپنے لئے پسند کرے اور ایمان کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ وہ ہر ایک کے ساتھ برادرانہ ہمدرانہ اور خیر خواہانہ رویہ رکھے جس طرح وہ دوسروں سے اپنے لئے چاہتا ہے۔
یہ حدیث بڑی اہمیت کی حامل ہے بندہ مومن اگر صحیح طریقہ سے سمجھ لے اور اپنی زندگی میں اس کو لاگو کرنے کی کوشش کرے تو یقینا سماج ایک اسلامی سماج بن جائے گا او رمعاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن جائے
گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *